Announcement

Collapse
No announcement yet.

Reply to Nadia Mirza Allegations repeated in her programme

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Reply to Nadia Mirza Allegations repeated in her programme



    محترمہ نادیہ مرزا صاحبہ کے "الزامات " اور ان کا جواب

    سترہ اپریل 2015 کو محترمہ نادیہ مرزا نے نیوز ون چینل پر اپنے پروگرام میں جماعت اسلامی کے بارے میں کچھ الزامات دہرائے ... جی دہرائے اس لیے کیوں کہ اس میں کچھ بھی نیا نہیں ، پرانے گسے پٹے الزامات

    https://www.dailymotion.com/video/x2ngrlk

    ہمیں ان کی نیت پر کوئی شک نہیں ، لیکن ان الزامات کا جواب دینا ہم اس لیے ضروری سمجھتے ہیں تا کہ نادیہ مرزا بھی حقیقت جان جائیں ان الزامات کی

    جماعت اسلامی پر یہ الزام ہے ، وہ الزام ہے

    نادیہ مرزا صاحبہ خود کہتی ہیں کہ الزامات ہیں ،یعنی حقیقت کچھہ بھی نھیں ھے اور الزام تو ھر کوئی لگا سکتا ھے ۔ان الزامات کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایک فورم موجود ھے اور وہ ھے کورٹ اور اج کل تو ان لوگوں کو ایک اور اسانی میسر ھے آرمی کورٹ کے شکل میں،تو جن جن لوگوں نے الزامات لگائے ھے وہ کورٹ میں جاکر ثابت بھی کریں تب ھم مانینگے ،پھر ھر ایک کو حق حاصل ھو گا جماعت اسلامی کے (کل-----------اور آج) پر بات کرنے کا..!!
    القائدہ کی معاونت کا الزام
    جماعت اسلامی پر القاعدہ اور ٹی ٹی پی کی معاونت کا الزام زبان زد عام رہا ہے ، ویسے تو بغیر ثبوت کے لگائے جانے والے الزام کا جواب دینا ہی فضول ہے لیکن پھر بھی ، جماعت اسلامی کے کسی "صولت مرزا " یا "اجمل پہاڑی " کی کوئی ایسی ویڈیو ہی دکھا دیں جس میں وہ تسلیم کر رہے ہوں کہ ہمارا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور جماعت نے انھیں القاعدہ سے تعاون کا کہا
    تھنڈر سکواڈ
    تھنڈر سکواڈ جیسا بھونڈا الزام الطاف حسین نے اپنی تقریر میں لگایا تھا ، اس کی نہ کوئی حقیقت ہے اور نہ کوئی ثبوت ، خود سے گھڑا گیا ایک مفروضہ ہے ،
    حیرت تو یہ ہے جمیعت یا جماعت کا ایک بندہ بھی کسی دہشت گردی کے کیس میں نامزد نہیں نہ ہی کبھی ان کو سزا ہوئی ، اور وہ لوگ جن کے سینکڑوں افراد دہشت گردی کے الزام میں گرفتار ہیں اور سزائیں ہو چکی ہیں وہ جماعت اسلامی پر یہ الزام لگاتے ہیں جب کہ سب کی آنکھوں سے سامنے ہے کہ جماعت نے اپنے شہدا کے خون کے بدلے میں بھی بندوق نہیں اٹھائی چاہے وہ ڈاکٹر پرویز شہید ہوں یا ایسے بہت سے اور

    ارشد وحید اور اکمل وحید ... سلیم شہزاد کی کتاب کا حوالہ

    ------------------------
    سلیم شہزاد کی کتاب کا حوالہ دیا ، کاش کہ پورا دے دیا ہوتا
    سلیم شہزاد صاحب کی کتاب آپ یہاں سے ڈاونلوڈ کر سکتے ہیں

    https://archive.org/details/InsideAlQaedaAndTaliban
    سلیم شہزاد اپنی کتاب میں صفحه نمبر 9 پر لکھتے ہیں




    Among them were two well-known brothers,
    Dr Akmal Waheed and Dr Arshad Waheed,

    who had earlier been affiliated with Jamaat-e-Islami



    اگر کسی کو انگریزی کی الف ب پتا ہو ٹوہ اچھی طرح سمجھ لے گا کہ سلیم شہزاد نے واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ لوگ پہلے جماعت سے منسلک تھے اور پھر جماعت چھوڑ دی .... جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جماعت چھوڑ چکے تھے .. اب اگر جماعت اسلامی سے نکلنے کے بعد بھی جماعت ہی ان کے قول و فعل کی ذمہ دار ہے تو اسے میں آپ کا انتہا درجے کا تعصب ہی سمجھوں گا

    اور یہ بات بھی طے ہو جانی چاہیے کہ اگر ایک شخص کسی تنظیم یا ادارہ میں شامل ہوتا ہے اور پھروہ تنظیم یا ادارہ اسے نکال دے یا وہ اسے چھوڑ کرکسی اور تنظیم یا ادارے میں شامل ہو جاتا ہے اور کوئی جرم کرتا ہے تو کیا کسی بھی طرح اس کی پہلی تنظیم یا ادارہ کو اس کے جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے ؟؟
    ایک منصف مزاج دماغ تو یہی جواب دیتا ہے ، قطعا نہیں ..... لیکن اگر کوئی صاحب یا صاحبہ پھر بھی زبردستی پہلی تنظیم یا ادارہ کو ہی ذمہ دار ٹھہراتا ہے تو آپ ایسے بہت سے دہشت گردوں کے جرائم کے لیے کیا پاک فوج کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے جن کا تعلق پہلے فوج سے تھا اور پھر انہوں نے دہشت گردی کی کارروائیاں کیں
    بہت سے نام مثال کے طور پر دیے جا سکتے ہیں لیکن چونکہ آپ نے سلیم شہزاد صاحب کی کتاب کا حوالہ دیا ، تو اسی کتاب میں تین ریٹائرڈ آرمی آفیسرز کا القائدہ کی معاونت کے حوالے سے ذکر ہے جن میں کیپٹن خرم عاشق ، میجر عبدلرحمان ، میجر ہارون عاشق کے نام شامل ہیں
    (xصفحه نمبر )





    --------------------------
    خالد شیخ محمد کی جماعت کی ناظمہ کے گھر سے 2 مارچ 2004 کو گرفتاری
    پہلے تو آپ کی تصحیح کر دیں ، وہ 1 مارچ 2003 کو گرفتار ہوا ، 2004 کو نہیں

    یکم مارچ 2003 کو احمد عبدالقدوس کو گرفتار کیا گیا ، ، احمد عبدالقدوس کی بیوی فرزانہ قدوس کا تعلق جماعت اسلامی خواتین ونگ سے تھا

    http://www.dawn.com/news/87514/khali...r-sent-to-jail
    احمد عبدالقدوس کے خاندان کے مطابق خالد شیخ کو ان کے گھر سے گرفتار نہیں کیا گیا
    http://www.theguardian.com/world/200...aida.terrorism
    احمد عبدالقدوس ذہنی طور پر معذور تھے ، مرحوم صحافی سلیم شہزاد
    http://www.atimes.com/atimes/South_A....DUot0kST.dpuf

    احمد عبدالقدوس کو بعد میں کورٹ نے رہا کر دیا گیا
    http://www.dawn.com/news/89726/qudoo...ased-from-jail
    اگر جماعت اسلامی کی خاتون رہنما نے کسی دہشت گرد کو پناد دی تھی ، تو ان کو گرفتار کیا جانا چاہئیے تھا ، اس وقت فوجی حکومت کا سربراہ مشرف تھا ، نہ کوئی ایسا کیس فرزانہ قدوس صاحبہ پر بنایا گیا اور نہ ہی ان کو گرفتار کیا گیا ، جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ ان پر سراسر جھوٹا الزام تھا ، اب بھی اگر کوئی اسے سچ سمجھتا ہے تو اسے چاہیے مقدمہ درج کروا کر ان کو گرفتار کروائے ، اگر نہیں تو جھوٹ پھیلانے والوں پر الله نے لعنت کی ہے
    سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ ... 3 جون 2009 ....زبیر عرف نیک محمد منصورہ سے گرفتار ہوا ، کہا کہ ساری ٹیم منصورہ میں موجود تھی
    زبیر نامی شخص کو مدینہ کالونی والٹن روڈ سے گرفتار کیا گیا ، نہ کہ منصورہ سے.......ڈان نیوز


    http://www.dawn.com/news/472067/sri-...k-suspect-held
    ملزم نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا : "حملے سے 2 روز پہلے منصورہ کے سامنے والی گلی میں آیا تھا " جس کو میڈیا نے خود سے گھڑ کر کہ دیا کہ منصورہ میں آیا
    http://www.express.com.pk/epaper/PoP...&Date=20090618

    ..... اب اگر کوئی شخص جس نے کبھی بھی منصورہ دیکھا ہے تو یہ ایک رہائشی کالونی ہے جس کی باونڈری وال ہے ، اب اس سے باہر ، سامنے والی گلی میں کوئی شخص آیا تو اس سے جماعت اسلامی کا کیا تعلق ؟



    جی ایچ کیو حملہ ... عقیل عرف عثمان .... اعتراف منصورہ پناہ گاہ تھی
    عقیل عرف عثمان جی ایچ کیو حملے میں ملوث تھا ، عثمان کا تعلق پہلے پاکستان آرمی کی میڈیکل کور سے رہا ، ڈاکٹر عثمان کو 10 اکتوبر2009 کو جی ایچ کیو حملے والے دن ہی گرفتار کیا گیا اور 20 دسمبر 2014 کو اسے پھانسی دی گئی
    اس کا تعلق کبھی بھی جماعت اسلامی سے نہیں رہا اور نہ ہی کبھی اس نے یہ دعویٰ کیا اور نہ ہی کبھی عقیل عرف عثمان نے منصورہ کے پناہ گاہ ہونے اعتراف کیا
    یہ سفید جھوٹ گھڑ کر پھیلانے کی ناکام کوشش کی گئی
    کامران خان کے ایک پروگرام میں دکھائی جانے والی ویڈیو، جس کو کچھ حضرات بار بار Quote کرتے ہیں ، میں زبیر (سری لنکن ٹیم حملے کے سلسلےملوث ملزم ) سے گرفتاری کے موقع پر جب میڈیا والوں نے کرید کرید کر یہ پوچھا کہ ڈاکٹر عثمان کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے ؟ تو اس نے کہا مجھے نہیں پتا ... کچھ سادہ لوح (یا جاہل کہا جائے انہیں ؟)صرف ویڈیو کا ٹائٹل دیکھ کر ہی جھوٹ پر یقین کر لیتے ہیں اور پھر اسی جھوٹ کو پھیلاتے رہتے ہیں
    اکتوپر 2011... سپریم کورٹ نے کراچی میں جماعت کا نام بھتہ خوری میں درج کیا
    ... خود ہی بتا دیا کہ ہائی کورٹ نے کلیئر کر دیا تو پھر جھوٹے الزام کو دہرانے کا فائدہ ؟

    گیارہ ستمبر 2011 .. پنجاب یونیورسٹی سے القاعدہ کا سرغنہ گرفتار ... تفتیش پر 6 گرفتار ..اعتراف جمیعت نے سہولت د ی
    پھر تصحیح کر دوں .... یہ واقعہ 2011 نہیں 2013 کا ہے


    http://tribune.com.pk/story/602715/s...pects-arrested

    ... اعتراف کہ جمیعت نے سہولت دی ، یہ اعتراف کس اخبار میں آیا ؟ ذرا ہمیں بھی بتا دیں جس میں پکڑے جانے والے افراد نے خود یہ اعتراف کیا ہوا اب اگر میڈیا والے خود سے گھڑ کر یہ لکھ دیں "مبینہ طور پر جمیعت نے سہولت دی " تو جناب یہ آپ کی طرف سے لگایا جانے والا الزام ضرور ہو سکتا ہے ، مجرموں کا اعتراف نہیں
    یونیورسٹیوں میں جمیعت کا اثر و رسوخ ہے .........اچھا .....تو اصل مسلہ یہ ہے
    اور یہی مسلہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بھی ہے کیوں کہ اپنی انتہائی کوشش کے باوجود جب وہ جمیعت کو ختم کرنے میں ناکام رہے تو اس طرح کے بھونڈے الزامات لگانے شروع کر دیے

    حقیقت کیا ؟

    قانون نافذ کرنے والے اداروں نے القاعدہ سے تعلق کے الزام میں کچھ افراد کو گرفتار کیا
    وائس چانسلر صاحب نے بجائے اپنی نا اہلی پر شرمندہ ہونے کے یا یونیورسٹی میں کوئی سرچ آپرشن کروانے کے جمیعت پر جھوٹے الزام لگائے تا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر جمیعت کو یونیورسٹی سے ختم کیا جائے .. جو الحمد للہ ناکام ہوا
    جس بندے احمد سجاد راٹھور کا نام آیا اس کا جمیعت سے کوئی تعلق تھا ہی نہیں ... اگر تھا تو صولت مرزا اور اجمل پہاڑی کی طرح اس کی بھی ویڈیو لائیے جس میں وہ بتا رہا ہوں کہ میں جمیعت کا فلاں تاریخ کو رکن بنا تھا










    وائس چانسلر صاحب کا کہنا تھا کہ چار سال سے غیر متعلقہ لوگ یہاں رہ رہے تھے ایسے نا اہل وائس چانسلر کو تو فورا فارغ کر دینا چاہیے جس نے نہ خود کوئی ایکشن لیا ، نہ میڈیا کو پہلے چار سال تک بتایا نہ پولیس کو کارروائی کی ہدایت کی
    اسلامی جمیعت طلبہ پنجاب یونیورسٹی نےفورا پریس کانفرنس کر کر خود قانون نافذ کرنے والے اداروں سے یونیورسٹی میں فوری آپریشن کا مطالبہ کیا








    نومبر 2007 عمران خان ، پنجاب یونیورسٹی اور جمیعت
    عمران خان صاحب کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی میں جو واقعہ ہوا ، وہ قابل مذمت تھا
    قاضی حسین احمد صاحب مرحوم نے خود اخبار میں لکھ کر جمیعت سے ناراضگی کا اظہار کیا
    اس واقعے میں جو افراد ملوث تھے ، اسلامی جمیعت طلبہ نے خود ان کا جمیعت سے اخراج کر دیا تھا

    یہ بات الگ ہے کہ نکالے گئے لوگ بعد میں آئی ایس ایف کے لیڈر بن گئے.....اب آیا وہ سارا واقعہ ان کی پلاننگ تھی یا کچھ اور

    کون شہید کون ہلاک
    شہید تو وہ ہے جس کی شہادت الله قبول کر لے ، اور کسی کی شہادت کی قبولیت تو صرف الله ہی جانتا ہے
    جس ملک میں ہر دوسرا سیاسی لیڈر جو ساری زندگی اسلام کے خلاف گزارے اور مرنے کے بعد شہید کہلائے وہاں اگر ایک آدھ شہید کا اضافہ ہو جاتا ہے تو کون سی قیامت آ گئی ؟
    دہشت گردی کی جنگ میں ہلاک ہونے والے سب شہید
    جھوٹ کی بھی حد ہوتی ہے ، .... سید منور حسن صاحب سمیت جماعت کے کسی بھی شخص نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا کہ " دہشت گردی کی جنگ میں ہلاک ہونے والے سب شہید ہیں "
    ایک فرد جو امریکی حملے میں مارا گیا ، کے حوالے سے سید منور حسن صاحب نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا اور کسی کو اعتراض ہے تو علماء سے نکتہ نظر لے ، ورنہ اس پر تو بڑوں نے بھی کافی کچھ کہ دیا تھا

    ہم امید رکھتے ہیں نادیہ مرزا صاحب اب سچ جاننے کے بعد یہ سچ اپنے پروگرام کے توسط سے قوم تک ضرور اسی طرح پہنچائیں گی جس طرح انہوں نے اپنے پروگرام میں الزامات کی فہرست پڑھ
Working...
X