Announcement

Collapse
No announcement yet.

So finally it comes to Jamaat Islami vs musharaf

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • So finally it comes to Jamaat Islami vs musharaf

    So finally it comes to Jamaat Islami vs musharaf

    So it came down to Jamaat Islami Vs Gen Musharraf in Chitral.

    All anti-musharraf people, please support JI's candidate Maulana Abdul Akbar Chitrali, who was MNA from this seat NA-32 in 2002.

    JI has won this seat in 1993 and 2002, while JI boycotted in 97 and 2008.


    courtesy: a friend from chitral

    حلقہ این اے32 چترال 2002ء سے قبل این اے 24 چترال والا ہی حلقہ ھے جہاں سے ممتاز عالم دین حضرت مولانا عبدالرحیم چترالی مرحوم نے 1993ء میں شہزادہ محی الدین موجودہ ایم این اے کو ہرا کرکامیابی حاصل کی تھی
    1997ء میں جماعت اسلامی نے الیکشن کا بایکاٹ کیا جس کی وجہ سے شہزادہ محی الدین کو ایک بار پھر اسمبلی میں جانے کا موقع ملا۔

    چونکہ شہزادہ محی الدین گریجویٹ نہیں تھے اس لیے 2002ء کے الیکشن میں مولانا عبدالرحیم چترالی مرحوم کے بھتیجے مولانا عبدالاکبر چترالی نے شہزادہ محی الدین کے بیٹے شہزادہ افتخار کو بھاری اکثریت سے ہرا کر جیتا تھا لیکن جماعت اسلامی نے 2008ء کے الیکشن کا بایکاٹ کیا اور یوں شہزادہ محی الدین کو ایک بار پھر اسمبلی میں جانے کا موقع ملا۔اب صورتحال یہ ھے کہ شہزادہ محی الدین ایم این اے تو ھے لیکن گزشتہ کچھ عرصہ سے شدید علیل ہیں اور ان کی بینای نظر بھی بیماری کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ھے اس لیے ان کے لیے حلقے کا دورہ کرنا بھی مشکل ھے ان کی صحت جواب دے گی ھے اس لیے انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف کو چترال سے الیکشن لڑنے کی دعوت دی ھے کیونکہ ان کے بیٹے بحرحال اس نشست پر مقابلہ نہیں کر سکتے

    وزیشن جو بھی ھو مقابلہ جماعت اسلامی اور شہزادہ محی الدین یا اس کے نمایندے پرویز مشرف کا ھوگا۔پی ٹی آی تو فی الحال نہیں ھے چترال میں البتہ پی پی پی حسب سابق انتشار اور گروپ بندی سے دوچار ھے

    صرف 1993ء میں نہیں بلکہ اس سے قبل 1990ء میں جماعت اسلامی کے سابق امیر مولانا غلام محمد صاحب IJI کی ٹکٹ پرچترال سے رکن صوبای اسمبلی منتخب ھویے تھے اور تب پورے چترال کا ایک قومی اور ایک ہی صوبای حلقہ ھوا کرتا تھا۔اور اس سے قبل 1985ء کے غیر جماعت الیکشن میں بھی اسی حلقے سےجماعت اسلامی کے مولانا عبدالرحیم چترالی مرحوم نے 24 ہزار سے زاید ووٹ حاصل کیے تھے اور بہت کم ووٹوں سے جماعت اسلامی یہ نشست ہاری تھی بلکہ اس وقت گلگلت کے کچھ علاقے بھی چترال کے حلقے میں شامل تھے اور انہیں باقاعدہ منصوبے کے تحت ہرایا گیا تھا تب دور دراز کے پولنگ سٹیشنوں سے مولانا صاحب کے ووٹ والے بکس ہی عایب کیے گیے تھے۔اور گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں تو جماعت اسلامی چترال سے ضلع ناظم کی نشست بھی ھاصل کر چکی ھے ۔جماعت اسلامی کےسید معفرت شاہ صاحب 2005ء کے بلدیاتی انتخابات میں چترال کے ضلع ناطم منتخب ھویے تھے۔جنہیں اب صوبای اسمبلی کے امیدوار کے لیے متبادل امیدوار رکھا ھے- الحمد اللہ چترال میں جماعت اسلامی اب ماضی مے مقابلے میں کافی مضبوط حیثیت اختیار کر چکی ھے جس کے پاس سابق ضلع ناظم اب صوبای اسمبلی کیلیے متبادل امیدوار کی حیثیت سے موجود ھے





    دیکھنا ہے زور کتنا بازو قاتل میں ہے
Working...
X