Announcement

Collapse
No announcement yet.

ختم نبوت سے متعلقہ حلف نامے میں ترمیم کو روکنے کے لئے جماعت اسلامی کا کردار

Collapse
This is a sticky topic.
X
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • ختم نبوت سے متعلقہ حلف نامے میں ترمیم کو روکنے کے لئے جماعت اسلامی کا کردار






    تصویر میں موجودفرد کا نام ایڈووکیٹ سیف الله گوندل ہے، رکن جماعت اسلامی ہیں اور یہ وہ خاموش ہیرو ہیں جنہوں سے سب سے پہلے حلف نامے میں تبدیلی کے بارے میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور سینیٹر حمداللہ کو آگاہ کیا کہ اگر اس تبدیلی کو روکا نہ گیا تو قادیانیت کے حوالے سے آئینی ترمیم بے معنی ہوکر رہ جائے گی-
    ہم سیف اللہ گوندل کو اس کارنامے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی اس کار خیر کو قبول فرمائے اور روز حشر ان کے لئے نجات کا ذریعہ بنادے- آمین





    ----------------------------------
    اب ذرا اس پوسٹ کے ٹائٹل سے متعلقہ بات ہو جائے
    پچھلے دنوں میں ہونے والے واقعات کے بعد چندحضرات کی توپوں کا رخ جماعت اسلامی کی طرف ہونے کی وجہ سمجھ نہیں سکا ان حضرات کی دو اوسام ہیں

    اول : وہ حضرات جو فرماتے ہیں جماعت اسلامی والوں کا اسمبلی میں ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ، ان سے تو ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم تک پکڑی نہیں گئی ، یہ کام شیخ رشید نے کر دے

    دوم : وہ جن کا ختم نبوت ترمیم کے بعد نہ کوئی سٹیٹس نظر آیا ، نہ ان کے لیڈران کی طرف سے کوئی مذمت نظر آئی اور موضوع کو تازہ دیکھ کر اپنی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئے نشانہ جماعت کو بنا لیا

    جب کہ سچ یہ ہے کہ سب سے پہلےجماعت اسلامی نے ہی قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس تبدیلی کی نشاندہی کی اور باقاعدہ ترمیم بھی پیش کی ..... اور یہ ان علمائے کرام کے نوٹ کرنے اور شیخ رشید صاحب کی تقریر سے بھی پہلے کیا گیا
    ذیل میں اس بل سے متعلق تمام نکات ریفرنس لنکس کے ساتھ موجود ہیں تا کہ ان حضرات کی تسلی ہو جائے

    -------------------------------
    2014 میں الیکشن قوانین میں اصلاحات کے لئے گورنمنٹ نے "پارلیمانی کمیٹی " بنایے ، اس کمیٹی کی 118 میٹنگ ہوئیں (25 مین کمیٹی کے ,93 ذیلی کمیٹیوں کے) اور الیکشن بل 2017 ، 7 اگست 2017 کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا

    اس سارے عرصے میں کسی بھی میٹنگ میں ختم نبوت سے متعلقہ حلف نامے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی اور کمیٹی میں موجود اپوزیشن کے تمام ارکان اس بات کے گواہ ہیں ، یہ تمام میٹنگز ریکارڈڈ تھیں ،
    https://www.facebook.com/JIPOfficial...1789536200672/

    قومی اسمبلی میں پیش کردہ بل کی پی ڈی ایف کاپی اس لنک پر عوام الناس کے لئے موجود رہی تا کہ وہ پڑھ سکیں اور اپنی رائے دے سکیں
    Draft Elections Bill 2017 for Views/Comments of Public at large

    پیش کردہ بل کے صفحہ نمبر 86 پر نیا تجویز کردہ حلف نامہ موجود ہے جس میں OATHاور SOLEMNLY SWEAR کے الفاظ نکل دئیے گئے



    اصل حلف نامہ جو کہ 2013 کے الیکشن میں استعمال ہوا ، الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر پر موجود ہے


    الیکشن ریفارمز بل قومی اسمبلی سے 22اگست 2017 بروز منگل کو منظور ہوا

    24اگست 2017 کو بل سینٹ میں پہنچا

    جماعتِ اسلامی کے قانونی شعبے کے جناب سیف اللہ گوندل ایڈووکیٹ نے اس بل کا تفصیلی مطالعہ کرتے ہوئے اس قانونی سقم کی طرف سراج الحق صاحب کی توجہ دلائی ، جمیعت علمائے اسلام کے مولانا حمد الله صاحب کو بھی سیف الله گوندل صاحب نے بریفنگ دی ، اس کا ذکر مفتی منیب الرحمن صاحب نے اپنے 17 اکتوبر کو چھپنے والے کالم میں بھی کیا

    سینٹ میں سراج الحق صاحب نے اور مولانا حمد الله صاحب نے دستخطوں کے ساتھ ترمیم پیش کی کہ حلف نامے کو اصل صورت میں بحال کیا جائے
    22 ستمبر کو سینٹ میںگورنمٹ نے یہ بل منظور کروانے کے لئے پیش کیا ، جمیعت علمائے اسلام کے حافظ حمداللہ نے ترمیم پیش کی کہ حلف نامے کو اصل حالت میں بحال کیا جائے ، یہ ترمیم 13 کے مقابلے میں 34 ووٹوں سے رد ہو گئی ..... یعنی 34 افراد نے نئے حلف نامے کو منظور کیا
    سینٹ کی روداد اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں
    https://drive.google.com/file/d/1AHy...UTsZVkfSO/view
    یوں سینٹ نے یہ بل 22 ستمبر 2017 کو پاس کیا

    سینٹ کے بعد یہ بل دوبارہ قومی اسمبلی سے 2 اکتوبر 2017 کو منظور ہوا، منظور ہونے سے پہلے جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق الله نے حلف نامے کو اصل حالت میں بحال کرنے کی ترمیم پیش کی جو مسترد کر دی گئی ....اس ترمیم کی خبر جنگ نیوز 30 ستمبر 2017 , راولپنڈی ایڈیشن بیک پیج (آخری صفحہ ) پر بھی دیکھی جا سکتی ہے


    صاحبزادہ طارق الله کی2 اکتوبر 2017 کو قومی اسمبلی میں تقریر کی ویڈیو اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں
    http://<a href="https://www.youtube....vzT5TjVvpo</a>

    صاحبزادہ طارق الله کے بعد شیخ رشید نے تقریر کی ، اور ختم نبوت پر حملے کے حوالے سے بات کی لیکن معامله اس تفصیل سے بیان نہیں کیا جس طرح طارق الله صاحب نے بیان کیا ، ملاحظه کیجے ویڈیو اس لنک پر ..... ویڈیو میں 2:01منٹ سے آگے

    http://<a href="https://www.youtube....zQAJzcxVFY</a>

    جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق الله کی حلف نامے کو اصل حالت میں بحال کرنے کی ترمیم مسترد کر دی گئی
    شیخ رشید صاحب کو معاملے کی تفصیل کا علم نہ تھا اور اس کی تفصیل انہوں نے صاحبزادہ طارق الله سے اگلے دن فون پر معلوم کی
    2 اکتوبر کو منظور ہونے والے بل کا لنک :
    http://senate.gov.pk/uploads/documen...589068_271.pdf

    3 اکتوبر کو حکومت کا حلف نامے میں تبدیلی ماننے سے انکار
    لیکن بعد میں حکومت نے اپنی غلطی تسلیم کی اور تصحیح پر متفق ہو گئی
    تصحیح کرنے کے لئے ترمیم 5 اکتوبر اور پھر 16 نومبرکو قومی اسمبلی کو پیش کی گئی
    یہی ترامیم سینٹ میں پیش ہوئیں اور اس طرح حلف نامے کو پھر سے بحال کیا گیا
    ----------------------------------
    چند سوالات اور جوابات :
    سوال : کیا ان ترامیم کے نتیجے میں قادیانی مسلمان قرار پا جاتے ؟ کیا یہ کفر و ایمان کا مسئلہ تھا ؟

    جواب : اس کا بہتر جواب مفتی منیب الرحمان صاحب نے اپنے 17 اکتوبر کو چھپنے والے کالم " فدائیانِ ختمِ نبوت کی توجہ کے لیے" میں دیا ہے
    جس مسئلے پر نزاع پیدا ہوا، وہ ایمان وکفر کا مسئلہ نہیں تھا، کیوں کہ اقرارِ ختمِ نبوت کی عبارت ڈیکلریشن فارم میں موجود تھی اور اسلامی عقائد کی کسی کتاب میں یہ درج نہیں ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم حلف اٹھائے بغیر کلمۂ اسلام پڑھے تو وہ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا یا کسی مسلمان کا حلف کے بغیر ختمِ نبوت کا اقرار کرنے سے اُس کا عقیدہ مشتبہ قرار پائے گا۔ پس علمائے ربانییّن کی ذمے داری ہے کہ ادِلّ�ۂ شرعیہ کی روشنی میں جس بات پر جتنا شرعی حکم مرتّب ہوتا ہو، وہ لگایا جائے، خواہ وہ حکم تفسیق و تضلیل کا ہو یا پھر انتہائی درجے میں کفر وارتداد کا۔
    سوال : تو پھر حلف نامے میں تبدیلی کو واپس کروانے کے لئے ترمیم کیوں پیش کی گئی ؟ اور بعد ازاں اسےاصل شکل میں بحال کرنے پر کیوں زور دیا گیا ؟
    جواب : یہ بھی مفتی منیب الرحمان صاحب کے قلم سے
    درپیش صورت حال میں یہ جرم سرزد ہوا کہ ’’حلفیہ اقرار کرتا ہوں‘‘ کے الفاظ حذف کردیے گئے اور اسی طرح Solemnly کا لفظ بھی حذف کردیا گیا تھا، جس کے معنی ہیں: ’’صدقِ دل سے‘‘، باقی مجرّد اقرار نامہ بدستور موجود تھا۔ میں نے ایک ماہرِقانون سے پوچھا کہ عام حالات میں حلف کے بغیر بھی اقرارِ ختمِ نبوت معتبر ہے، یہاں ’’حلفیہ اقرار‘‘ کے الفاظ حذف کرنے سے کیا قانونی اثر مرتّب ہوگا؟۔ انہوں نے جواب دیا: ’’اگر ایک شخص نے ختمِ نبوت کا حلفیہ اقرار کیا ہے اور بعد میں ناقابلِ تردید شواہد سے یہ ثابت ہوجائے کہ وہ قادیانی ہے، تو جھوٹا حلف نامہ داخل کرنے پر اسے پارلیمنٹ کی رکنیت سے نا اہل قرار دیا جاسکتا ہے‘‘، سو قانونی نتائج کے اعتبار سے ’’حلفیہ اقرار‘‘ کی بڑی اہمیت ہے
    مفتی منیب الرحمان صاحب کے کالم کا لنک
    سوال : کمیٹی میں کچھ نہیں بولے ، بعد میں اسمبلی میں بولے
    جواب : قومی اسمبلی میں پیش ہونے سے پہلے حلف نامے میں تبدیلی کبھی زیر بحث نہیں آئ اور اس کی گواہی پارلیمانی کمیٹی کے تمام ارکان نے ڈی ، تفصیل کے لئے دیکھئے یہ ویڈیو

    شیخ رشید کے سوا ایک سوال تمام باقی سیاسی جماعتوں سے بھی ہے ... وہ کھل کراسمبلی میں کیوں نہیں بولے .. حتی کہ بعض اپوزیشن جماعتیں ترمیم کے بعد بھی اس پر ایک لفظ نہ بولیں
    الله تعالی ختم نبوت سے متعلقہ اس تبدیلی کو روکنے والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے ، اور ہم سب کو خاتم النیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے .... آمین
    ---------------------------------------------------------

Working...
X