Announcement

Collapse
No announcement yet.

Maulana Maududi Jamaat islami Creation of Pakistan and Quaid Azam

Collapse
X
  • Filter
  • Time
  • Show
Clear All
new posts

  • Maulana Maududi Jamaat islami Creation of Pakistan and Quaid Azam

    Maulana Maududi Jamaat islami Creation of Pakistan and Quaid Azam



    مولانا مودودی ، جماعت اسلامی، قیام پاکستان اور قائد اعظم
    پاکستان کی مخالفت کا جھوٹا الزام
    یہ بار بار کا دہرایا ہوا الزام کہ جماعت اسلامی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اپنے اندر کوئی صداقت نہیں رکھتا – حالانکہ اس کے برعکس مولانا مودودی نے ١٩٣٩ ء میں ہندوستان کو تقسیم کرنے کی ایک سکیم پیش کی تھی تا کہ مسلمانوں کا علیحدہ وطن قائم ہو سکے –
    درج ذیل امور ثابت کرتے ہیں کہ مولانا مودودی نے کبھی بھی قیام پاکستان کی مخالفت نہیں کی – یہ ایسے حقائق ہیں جنھیں جھٹلایا نہیں جا سکتا -
    n جماعت اسلامی ١٩٤١ ء میں قائم ہوئی اور پاکستان کا قیام ١٩٤٧ء میں عمل میں آیا - اس چھے سال کے عرصے میں جماعت کی طرف سے قرارداد قیام پاکستان کے خلاف یا نظریہ تقسیم کے خلاف کوئی قرارداد پاس نہیں کی گئی
    کوئی تقریر یا تحریر جماعت کے کسی رہنما کی ایسی موجود نہیں ہے جس میں نظریہ پاکستان کی مخالفت کی گئی ہو
    جماعت کے قیام١٩٤١ ء سے پہلے مولانا مودودی ١٩٢٠ء سے مسلمانوں کی نشاۃِ ثانیہ کے لئے قلمی جہاد کر رہے تھے لیکن کوئی بھی ان کی تحریروں یا تقریروں سے یہ چیز ثابت نہیں کر سکتا کہ وہ قیام پاکستان کے خلاف تھے -
    مولانا مودودی اور جماعت اسلامی نے کوئی تحریک مسلم لیگ کے خلاف یا پاکستان کے قیام کو روکنے کے لئے شروع نہیں کی -
    مسلم لیگ یا تقسیم ملک کی مخالفت کرنے کے لئے کوئی جلسہ یا تقریر نہیں کی گئی
    n مولانا مودودی اور جماعت اسلامی پر قیام پاکستان کی مخالفت کا الزام لگانے والوں کو حقائق پر مبنی (ثبوت کے ساتھ جس کے ریفرنس کی تصدیق کی جا سکے )کوئی ایک مثال پیش کرنی چائیے




    مولانا مودودی اور قیام پاکستان
    مولانا مودودی نے یہ پیشگی اندازہ کر لیا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے مسائل کا حل ان کی اپنی علیحدہ آزاد مملکت کے قیام پر منحصر ہے اور اس سلسلے میں ان کی کوششوں کی مختصر روداد حسب ذیل ہے
    تقسیم ہندوستان کے لئے مولانا مودودی کی تجویز کردہ سکیم:
    مسلم لیگ کی قرارداد پاکستان سے بہت قبل مولانا مودودی نے ۱۹۳۸ ء میں برصغیر کی تقسیم کےلیے محض بلکہ ٹھوس خاکہ پیش کیاتا کہ ایک اسلامی ریاست قائم کی جا سکے – اور ایک تفصیلی منصوبہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے بھی تیار کیا – اس سلسلے میں سید شریف الدین پیرزادہ (جو قائد اعظم محمد علی جناح کے سیکرٹری بھی رہے )نے اپنی کتاب THE EVOLUTION OF PAKISTAN میں مولانا مودودی کو پاکستان کے اولین تصور پیش کرنے والوں میں شمار کیا ، وہ لکھتے ہیں
    " مختلف سکیمیں اور تجاویز جو سر عبدللہ ہارون ، ڈاکٹر لطیف ، سر سکندر حیات خان ، سید ظفر الحسن ، ڈاکٹر قادری ، مولانا مودودی، چوھدری خلیق الزمان ، مولانا عبدالودود خان اور پنجاب مسلم فیڈریشن نے پیش کیں وہ پاکستان کی شاہراہ کے سنگ میل ہیں "
    تقسیم ہندوستان کا منصوبہ جو مولانا مودودی نے تجویز کیا اس پر بحث کرتے ہوئے پیرزادہ صاحب نے کتاب میں لکھا کہ ١٩٣٨ – ١٩٣٩ ء میں مولانا مودودی نے مضامین کے ایک سلسلے میں کانگریس کے چہرے سے نقاب اٹھایا اور مسلمانوں کو متنبہ کیا – انہوں نے برصغیر کے کی تاریخ بیان کی اور کانگریس کے نام نہاد سیکولرزم کا پول کھولا – متحدہ ہندوستان میں جمہوری طرز حکومت کا چلنا غیر ضروری ثابت کیا کیونکہ چار ہندؤوں کے مقابلے میں صرف ایک مسلمان کا ووٹ ہو گا – انہوں نے ہنددوں کی قومی حکومت کے تصور کی مذمت کی اور یہ ثابت کیا کہ جداگانہ انتخابات ، نشستوں کا تعین ، تناسب کے حساب سے مسلمانوں کے لئے ملازمتیں مسلمانوں کے مسائل کا حل نہیں ، ان کی تجاویز تین نعم البدل پیش کرتی ہیں (صفحه ١٩١ ) Reference: Evolution of Pakistan By Syed Sharifuddin Pirzada, Page No. 258 , published By All-Pakistan Legal Decisions, 1963


Working...
X